السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: استحباب الطهر للذكر والقراءة باب: ذکر اور تلاوت کے لیے باوضو ہونے کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَبِي سَاسَانَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللهَ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور آپ ﷺ وضو کر رہے تھے، آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا، جب وضو سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تیرے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر میں نے ناپسند کیا کہ میں اللہ کا ذکر بےوضو کروں۔“