السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال بطهارة شعر الآدمي، وأن النهي عن الوصل به لمعنى آخر لا لنجاسته باب: اس قول کا بیان جس نے انسانی بالوں کے پاک ہونے کا کہا ہے، اور یہ کہ انہیں جوڑنے کی ممانعت کسی اور وجہ سے ہے نہ کہ ان کی نجاست کی وجہ سے
حدیث نمبر: 4232
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى فَدَعَا بِذِبْحٍ فَذُبِحَ، ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ فَأَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَجَعَلَ يَقْسِمُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ الشَّعْرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: " هَاهُنَا أَبُو طَلْحَةَ؟ " فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کو قربانی والے دن پتھر مارے، پھر اپنی جگہ پر منیٰ میں واپس آئے، قربانی منگوا کر ذبح کی، پھر سر مونڈنے والے کو بلایا، اس نے نبی ﷺ کے سر کے دائیں جانب سے بال اتار دیے، آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھنے والوں میں ایک ایک، دو دو بال کر کے تقسیم کر دیے، پھر اس نے نبی ﷺ کے بائیں جانب کے بال اتارے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہاں ابوطلحہ ہے؟“ وہ بال آپ ﷺ نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔