السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار في غسل المني تنظفا باب: نظافت کے پیش نظر منی دھونے کو اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4181
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ أَيَغْسِلُهُ أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغُسْلِ فِيهِ " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فِي إِضَافَةِ الْغُسْلِ إِلَيْهِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ سِيَاقَ الْحَدِيثِ لِأَجْلِ طَهَارَةِ عَرَقِ الْجُنُبِ وَأَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ غَسْلُ الثَّوْبِ الَّذِي أَجْنَبَ فِيهِ، وَقَدْ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ تَنْظِيفًا كَمَا يُغْسَلُ الْمُخَاطُ وَغَيْرُهُ مِنَ الثَّوْبِ تَنْظِيفًا لَا تَنْجِيسًا وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے کپڑوں کو لگی ہوئی منی کے بارے میں سوال کیا کہ اسے دھویا جائے یا کپڑوں کو؟ فرمانے لگے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کپڑوں کو دھوتے اور انہیں کپڑوں میں نماز کے لیے چلے جاتے اور میں دھونے کے نشانات آپ کے کپڑوں میں دیکھتی تھی۔
محمد بن بشر کی حدیث کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے کہ جنبی کا پسینہ پاک ہے، جن کپڑوں میں وہ جنبی ہوا ہے ان کو دھونا لازم نہیں، صرف منی کو صفائی کی غرض سے دھویا جائے جیسے تھوک وغیرہ کپڑے سے صفائی کی غرض سے دھوتے ہیں نجاست کی وجہ سے نہیں۔