وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَاحْتَلَمْتُ فِي ثَوْبِي، فَغَمَسْتُهُمَا فِي الْمَاءِ فَرَأَتْنِي جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَيَّ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: رَأَيْتُ مَا يَرَى النَّائِمُ فِي مَنَامِهِ، ⦗٥٨٥⦘ قَالَتْ: فَهَلْ رَأَيْتَ فِيهَا شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: فَلَوْ رَأَيْتَ شَيْئًا غَسَلْتَهُ، " وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَحُكُّهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَابِسًا بِظُفُرِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ أَحْمَدَ بْنِ جَوَّاسٍ.عبداللہ بن شہاب خولانی فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مہمان تھا، میں جنبی ہو گیا تو اپنے کپڑوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے مجھے دیکھ کر انہیں خبر دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو میری طرف بھیجا، پھر فرمایا: ”تجھے اپنے کپڑوں کے ساتھ ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟“ میں نے کہا: ”میں نے وہ کچھ دیکھا جو سونے والا دیکھتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”کیا آپ نے کچھ اثر دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اگر تو نے کچھ دیکھا ہوتا تو اسے دھو دیتا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نبی ﷺ کے کپڑوں سے خشک منی کو اپنے ناخنوں سے کھرچ دیا کرتی تھی۔“