السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في الفرق بين بول الصبي والصبية باب: لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کے حکم میں فرق کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " تَصُبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ " وَالْأَحَادِيثُ الْمُسْنَدَةُ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ فِي هَذَا الْبَابِ إِذَا ضُمَّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ قَوِيتْ وَكَأَنَّهَا لَمْ تَثْبُتْ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ حِينَ قَالَ: وَلَا يَتَبَيَّنُ لِي فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالْجَارِيَةِ فَرْقٌ مِنَ السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ، وَإِلَى مِثْلِ ذَلِكَ ذَهَبَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ حَيْثُ لَمْ يُودِعَا شَيْئًا مِنْهُا كِتَابَيْهِمَا، إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ اسْتَحْسَنَ حَدِيثَ أَبِي السَّمْحِ وَصَوَّبَ هِشَامًا فِي رَفْعِ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَمَعَ ذَلِكَ فِعْلُ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا صَحِيحٌ عَنْهَا مَعَ مَا سَبَقَ مِنَ الْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ فِي الرَّشِّ عَلَى بَوْلِ الصَّبِيِّ.سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا، وہ شیر خوار بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارتی تھیں اور جب وہ کھانا کھانے لگتا تو وہ پیشاب کو دھوتی تھیں اور بچی کے پیشاب کو دھویا کرتی تھیں۔
اس باب میں بچے اور بچی کے پیشاب میں فرق کے بارے میں مسند احادیث کو جب ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو وہ قوی ہو جاتی ہیں، اور گویا یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ثابت نہ تھیں جب انہوں نے کہا: ”ثابت شدہ سنت سے مجھے بچے اور بچی کے پیشاب میں کوئی فرق واضح نہیں ہوتا۔“ امام بخاری اور امام مسلم کا رجحان بھی اسی طرح کا ہے کیونکہ انہوں نے ان میں سے کوئی حدیث اپنی کتابوں میں درج نہیں کی، البتہ امام بخاری نے ابو السمح کی حدیث کو اچھا قرار دیا ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں ہشام کو درست قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا عمل ان سے صحیح ثابت ہے، اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے کے بارے میں پہلے گزری ہوئی ثابت شدہ احادیث بھی موجود ہیں۔