حدیث نمبر: 4157
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، وَقَالَ الْعَبَّاسُ: ثنا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ: " وَلِّنِي قَفَاكَ " فَأُوَلِّيهِ قَفَائِي فَأَسْتُرُهُ، ⦗٥٨٢⦘ فَأُتِيَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ، فَقَالَ: " يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاءِ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، فَقَالَ: " رُشُّوهُ رَشًّا، فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ بَوْلُ الْغُلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو سمح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ ﷺ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ”میری طرف گدی پھیرو“، میں گدی پھیر کر پردہ کرتا۔ حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو اس نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا، میں دھونے کے لیے آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بچی کے پیشاب کو دھونا چاہیے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے چاہئیں۔“
(ب) امام احمد رحمہ اللہ، عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ تم چھینٹے مارو کیونکہ بچی کا پیشاب دھویا جائے گا اور بچے کے پیشاب سے چھینٹے مارے جائیں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4157
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداؤد 376، ابن ماجه 526، ابن خزيمه 283»