السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: نجاسة الأبوال والأرواث وما خرج من مخرج حي باب: پیشاب، لید اور جاندار کے مخرج سے نکلنے والی ہر چیز کی نجاست کا بیان
حدیث نمبر: 4148
كَمَا ⦗٥٨٠⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِهِ " وَعَمْرُو بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَيَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ ضَعِيفَانِ، وَسَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ وَقِيلَ عَنْهُ: " مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْسَ بِسُؤْرِهِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، فَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حلال جانوروں کے پیشاب میں کوئی قباحت نہیں۔“
(ب) دوسری روایت میں ہے کہ ”جس کا گوشت کھایا جائے اس کے باقی ماندہ میں بھی کوئی حرج نہیں۔“
عمرو بن حصین عقیلی اور یحییٰ بن علاء رازی دونوں ضعیف ہیں، اور سوار بن مصعب بھی ضعیف ہے، لہٰذا اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔