حدیث نمبر: 4139
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَدَمِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا مُعَلَّىُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا ⦗٥٧٨⦘ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ بِالنَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ " وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِاثْنَيْنِ وَجَعَلَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو چغلی اور پیشاب کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔“ آپ ﷺ نے ایک تر چھڑی پکڑی، اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور انھیں دونوں قبروں پر گاڑ دیا اور فرمایا: ”شاید کہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 216-1361-1378-6052-6055»