السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة في ثياب الصبيان والمشركين وإن الثياب على الطهارة حتى يعلم فيها نجاسة باب: بچوں اور مشرکوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنے اور اس بات کا بیان کہ کپڑے پاک سمجھے جائیں گے یہاں تک کہ ان میں نجاست کا علم ہو جائے
حدیث نمبر: 4137
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: " يَا مُغِيرَةُ خُذِ الْإِدَاوَةَ " فَأَخَذْتُهَا، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ كُمِّهَا فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَالْجُبَّةُ الشَّامِيَّةُ فِي عَصْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَسْجِ الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَهِيَ عَلَيْهِ وَصَلَّى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! برتن پکڑو۔“ میں نے برتن پکڑا اور آپ ﷺ کے ساتھ چلا، آپ ﷺ چلتے چلتے مجھ سے چھپ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی۔ آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا جبہ پہنا ہوا تھا، آپ ﷺ نے آستین سے ہاتھ نکالنے کی کوشش کی، لیکن وہ تنگ تھی۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا، میں نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا اور آپ ﷺ نے نماز والا وضو کیا۔ پھر آپ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا اور نماز ادا کی۔ جبہ شامیہ نبی ﷺ کے زمانہ میں مشرکین کا بنا ہوا ہوتا تھا اور یہ آپ ﷺ پر تھا اور آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔