❮
❯
حدیث نمبر: 4131
وَأنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، فِي جَامِعِ الْحَرْبِيَّةِ بِمَدِينَةِ السَّلَامِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِي وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ ⦗٥٧٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا كَانَ مِنِّي وَطْءٌ جِئْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ اغْتَسَلْتُ، وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، وَأَمَّا مُوَاكَلَةُ الْحَائِضِ فَوَاكِلْهَا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ غسل کس سے واجب ہوتا ہے اور اس پانی کے بارے میں جو پانی کے بعد ہوتا ہے، اپنے گھر میں نماز پڑھنے، مسجد میں نماز پڑھنے اور حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] (اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتے)۔“ (اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پہلو میں تھیں) ”جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب میں وطی کرتا ہوں تو وضو کرتا ہوں پھر غسل کر لیتا ہوں۔ پانی کے بعد پانی سے مراد مذی ہے، ہر مرد کو مذی آتی ہے، لہٰذا اس سے اپنی شرمگاہ اور خصیتین کو دھو ڈال اور نماز والا وضو کر؛ رہی مسجد اور گھر میں نماز، تو تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد کے کتنا قریب ہے، پھر بھی مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، سوائے فرض نماز کے؛ اور رہا حائضہ کے ساتھ کھانا، تو اس کے ساتھ مل کر کھاؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4131
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ فوائد ابن … 1/120/4»