السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: طهارة البدن والثوب للصلاة باب: نماز کے لیے بدن اور کپڑے کے پاک ہونے کا بیان
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: 4] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قِيلَ: صَلِّ فِي ثِيَابٍ طَاهِرَةٍ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُغْسَلَ دَمُ الْمَحِيضِ مِنَ الثَّوْبِ.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ ”اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔“ [سورة المدثر: 4]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک قول یہ ہے کہ پاک کپڑوں میں نماز پڑھو، اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی کہے گئے ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کپڑے سے حیض کا خون دھونے کا حکم دیا ہے۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ہم میں سے کسی کے کپڑوں پر حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھرچ لے، پھر پانی کے ساتھ صاف کرے، پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس میں نماز پڑھ لے۔“