السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يخفف القراءة للأمر يحدث باب: امام کے کسی پیش آمدہ معاملے کی وجہ سے قراءت مختصر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4042
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ لمبی قرأت کروں گا، پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں تاکہ اس کی ماں پر دشوار نہ گزرے۔“