السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يضيق القراءة فيها بأكثر مما ذكرنا باب: اس قول کا بیان جس نے مغرب کی قراءت کو ہماری ذکر کردہ مقدار سے زیادہ پر تنگ نہیں کیا
حدیث نمبر: 4036
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ " قَالَ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: الْأَنْعَامُ وَالْأَعْرَافُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ.حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصداً چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو؟ آپ سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں لمبی لمبی سورتیں پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے پوچھا: وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا: اعراف۔ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: انعام اور اعراف۔