السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قدر القراءة في المغرب باب: مغرب میں قراءت کی مقدار کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِي، أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْمَغْرِبِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي تَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨].قیس بن حارث بیان کرتے ہیں: مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ آئے تو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور قصار مفصل میں سے ایک سورت پڑھی، پھر تیسری رکعت میں کھڑے ہوئے۔ ابو عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں ان کے اتنا قریب ہو گیا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو چھونے کے قریب تھے تو میں نے انہیں سورہ فاتحہ اور یہ آیت مبارکہ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] پڑھتے سنا: ”اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر۔ یقیناً تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے“۔