السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قدر القراءة في الظهر والعصر باب: ظہر اور عصر میں قراءت کی مقدار کا بیان
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي قَزَعَةُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.ربیع بن یزید سے روایت ہے کہ مجھے قزعہ نے حدیث بیان کی کہ میں ابو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، بہت سے لوگ آپ سے طالبِ کرم تھے، جب لوگ ان سے دور ہو گئے تو میں نے کہا: میں آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جس کے متعلق یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے، بلکہ میں آپ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔
انہوں نے کہا: تیرے لیے اس میں خیر نہیں ہے، میں نے پھر سوال لوٹایا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی ظہر کی نماز کھڑی ہوتی تو ہم میں سے کوئی ایک بقیعِ غرقد تک جاتا، اپنی حاجت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد میں آتا تو رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔