حدیث نمبر: 3985
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ فَلَمْ يَقْرَأْ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى شَيْئًا، فَلَمَّا قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، ثُمَّ عَادَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ " لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَفِي رِوَايَةِ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ: ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى صَلَاتَهُ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَزَادَ عَنْهُ قَوْلَهُ شَيْئًا نَسِيَهَا، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ تَفَرَّدَ بِهَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ وَسَائِرِ الرِّوَايَاتِ أَكْثَرُ وَأَشْهُرُ وَإِنْ كَانَ بَعْضُهَا مُرْسَلًا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَفِي رِوَايَةِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ وَلَمْ أَقْرَأْ قَالَ: أَتْمَمْتَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " تَمَّتْ صَلَاتُكَ " وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى تَرْكِ الْجَهْرِ أَوْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ بِدَلِيلِ مَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ الْمُسْنَدَةِ فِي إِيجَادِ الْقِرَاءَةِ، وَالْحَارِثُ الْأَعْوَرُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) عبداللہ بن حنظلہ بن راہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی تو اس کی پہلی رکعت میں قرأت نہ کی۔ جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھی۔ پھر دوبارہ سورہ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔
(ب) عاصم بن علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: پھر وہ اسی طرح چلتے رہے (نماز جاری رکھی) جب نماز پڑھ لی تو سہو کے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ج) حارث رضی اللہ عنہ کی روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا: ”میں نے نماز پڑھی ہے مگر اس میں قرأت نہیں کی۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تو نے رکوع و سجود کو پورا کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری نماز مکمل ہوگئی۔“
(د) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو جہری قرأت کے ترک کرنے یا فاتحہ کے علاوہ کسی اور سورت کی قرأت کے ترک کرنے پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل وہ گزشتہ احادیث ہیں جو قرأت کے وجوب کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3985
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في المصنف 2/123»