السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الذكر يقوم مقام القراءة إذا لم يحسن من القرآن شيئا باب: جب اسے قرآن میں سے کچھ بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا ہو تو ذکر قراءت کے قائم مقام ہو گا اس کا بیان
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَسَنٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوَفَى قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِينِي مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " قَالَ: فَقَامَ أَوْ ذَهَبَ أَوْ نَحْوُ هَذَا، فَقَالَ: هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ قَالَ: " ⦗٥٣٣⦘ قُلْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي " قَالَ: مِسْعَرٌ: وَرُبَّمَا اسْتَفْهَمْتُ بَعْضَهُ مِنْ أَبِي خَالِدٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں قرآن سے کچھ بھی یاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، مجھے ایسی کوئی چیز سکھلا دیں جو مجھے قرآن سے کفایت کر جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے۔““ راوی فرماتے ہیں کہ وہ کھڑا ہوا اور چلا گیا یا اس طرح کا کوئی اور کام کیا اور کہا: یہ تو اللہ کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہہ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت عطا کر، اور مجھے رزق عطا کر۔““