السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الذكر يقوم مقام القراءة إذا لم يحسن من القرآن شيئا باب: جب اسے قرآن میں سے کچھ بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا ہو تو ذکر قراءت کے قائم مقام ہو گا اس کا بیان
حدیث نمبر: 3975
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ، يَعْنِي حَدِيثَ الرَّجُلِ الَّذِي صَلَّى، وَقَالَ فِيمَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللهُ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ، ثُمَّ كَبِّرْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهِ وَإِلَّا فَاحْمِدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ " قَالَ فِي آخِرِهِ: " وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ ".حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ۔۔۔ انہوں نے اس شخص کی نماز کا قصہ بیان کیا۔ اس میں ہے کہ جو نبی ﷺ نے اس شخص کو سکھایا یہ ہے کہ: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے۔ پھر تشہد پڑھ، پھر کھڑا ہوجا اور تکبیر کہہ، اگر تجھے قرآن یاد ہو تو وہ پڑھ لے ورنہ اللہ کی حمد اور اس کی بڑائی بیان کر اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ۔“
(ب) اس کے آخر میں ہے کہ: ”اگر تو اس سے کچھ بھی کمی کرے تو وہ تیری نماز میں کمی ہوگی۔“