السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من فكر في صلاته أو حدث نفسه بشيء لم يسجد سجدتي السهو باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کچھ سوچا یا اپنے دل میں کوئی بات کی تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ قَالَ: " ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ " ⦗٤٩٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ رَوْحٍ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي لَأَحْسِبُ جِزْيَةَ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَا قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ ".(ا) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھے اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر باہر نکلے اور لوگوں کے چہروں پر آپ ﷺ کے اتنی تیزی سے نکل کر جانے پر تعجب اور حیرانگی کے آثار دیکھ کر فرمایا: ”مجھے نماز میں یاد آیا تھا کہ ہمارے پاس (سونے یا چاندی کی) ایک ڈلی تھی۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ ایک دن یا رات ہمارے پاس رہے۔ اب میں جا کر اس کو (راہ خدا میں) تقسیم کرنے کا حکم دے آیا ہوں۔“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کر لیا کرتا تھا۔