حدیث نمبر: 3859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجٌ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ أَوِ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَمْ يَذْكُرْ حَجَّاجٌ وَهُوَ غَضْبَانُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي النَّاسِ رَجُلٌ كَانَ يَدْعُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ " فَقَالَ: بَلَى نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ " وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرُ وَقَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے ظہر کا نام لیا ہے۔ آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے غصے کی حالت میں ایک لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ حجاج نے غصہ کی حالت کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس لکڑی پر رکھا ہوا تھا۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ لوگ جلدی جلدی نکلے تو کہنے لگے: ”کیا نماز کم ہو گئی؟ کیا نماز کم ہو گئی؟“ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ ﷺ ذوالیدین کہا کرتے تھے، ذوالیدین نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ میں بھولا اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔“ تو اس نے عرض کیا: ”کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر سجدہ کیا اور تکبیر کہی، پھر معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اور فرمایا: پھر آپ نے سلام پھیرا پھر تکبیر کہی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3859
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 714۔ 715۔ 482»