السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فترك ركنا عاد إلى ما ترك حتى يأتي بالصلاة على الترتيب باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے کوئی رکن چھوڑ دیا تو وہ اپنے چھوڑے ہوئے رکن کی طرف واپس لوٹے تاکہ نماز کو ترتیب کے ساتھ ادا کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ إِمَّا ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللهَ وَيُمَجِّدُهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللهُ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ فَيَسْتَوِيَ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُقِيمُ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَيَسْتَوِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ " ثُمَّ قَالَ: " لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ ".سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اس نے نماز پڑھی۔ جب نماز مکمل کی تو رسول اللہ ﷺ اور دیگر لوگوں کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جا دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ چلا گیا اور جا کر نماز پڑھی تو ہم اس کی نماز کی طرف دھیان کرنے لگے ہمیں اس کی نماز میں کوئی عیب سمجھ نہ آیا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کیا اور لوگوں کو سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جا دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ انہوں نے یہ بات دو بار یا تین بار ذکر کی تو اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے نہیں معلوم کہ آپ میری نماز میں کون سا عیب بتا رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کرے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے، اپنے چہرے کو دھوئے، دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، سر کا مسح کرے اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ پھر (نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت) تکبیر کہے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن پڑھے جتنا اللہ نے اسے حکم دیا۔ پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی اپنی جگہ برابر ہو جائیں، پھر کہے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور سیدھا کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اصل جگہ پر آ جائے۔ پھر اپنی کمر کو بالکل سیدھا کر لے اس کے بعد تکبیر کہہ کر سجدہ کر لے تو اپنی جبین کو زمین پر ٹکا لے حتیٰ کہ اس کے جوڑ برابر ہو جائیں، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائے اور اپنے مقعد پر برابر ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی کمر سیدھی رکھے۔“
تو انہوں نے نماز کو اس طرح بیان کیا حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے پھر فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک ہرگز مکمل نہ ہوگی جب تک کہ اس طرح نہ کرے۔“