السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
حدیث نمبر: 3852
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِدٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ: " صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَلَمْ يَجْلِسْ وَمَضَى عَلَى قِيَامِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي سَمِعْتُكُمْ آنِفًا تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللهِ، لِكَيْمَا أَجْلِسَ لَكِنَّ السُّنَّةَ الَّذِي صَنَعْتُ " ⦗٤٨٦⦘ وَرُوِّينَا ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، انہیں بیٹھنا تھا لیکن وہ کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «سُبْحَانَ اللَّهِ»! تو وہ نہ بیٹھے اور کھڑے رہے۔ جب وہ نماز کے آخر میں تھے تو انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”میں نے تمہیں ابھی ابھی سبحان اللہ کہتے سنا ہے تاکہ میں بیٹھ جاؤں لیکن سنت طریقہ وہی ہے جو میں نے کیا۔“
اس بارے میں صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے روایت کیا گیا ہے اور جو ہم نے ذکر کر دیا، یہی کافی ہے۔ وباللہ التوفیق۔