السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
حدیث نمبر: 3849
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: " صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ " وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ مِثْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ فِي السُّجُودِ قَبْلَ السَّلَامِ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد بیٹھے بغیر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ نہ بیٹھے۔ پھر جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔“
سلام سے پہلے سجدہ کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔