السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3833
قَالَ: وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤْمِنُ خَرَجَ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُصَاصٌ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ رَجَعَ، فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَدْخُلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ لَا يَدْرِي أَزَادَ فِي صَلَاتِهِ أَوْ نَقَصَ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ " وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى فَذَكَرَهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان مسجد سے بھاگ جاتا ہے، اس کے لیے ہوا کی آواز ہوتی ہے۔ پھر جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے، پھر جب مؤذن اقامت کہتا ہے تو پھر مسجد سے گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ دورانِ نماز مسلمان آدمی کے پاس آ کر اس کے اور اس کے دل میں حائل ہوتا ہے اور آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ کیا نماز میں کوئی زیادتی کر بیٹھا ہے یا کوئی کمی کر گیا ہے۔ جب تم میں سے کسی کے ساتھ یہ صورت پیش آئے تو وہ سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے۔“