السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ: وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ.حافظ ثناء اللہ
دوسری سند سے بھی یہی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔“