السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سجود السهو في الزيادة في الصلاة بعد التسليم باب: نماز میں زیادتی کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ، فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ثُمَّ تُسَلِّمَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ خُصَيْفٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.ابوعبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور تجھے شک پڑ جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار اور تیرا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد کے لیے بیٹھ جا، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر اسی طرح تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالواحد نے بھی اسے خصیف سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر اسے مرفوع بیان نہیں کیا، اور سفیان، شریک اور اسرائیل نے بھی عبدالواحد کی موافقت کی ہے، انہوں نے حدیث کے متن کے الفاظ میں اختلاف کیا ہے اور اسے نبی ﷺ تک مسند بیان نہیں کیا۔