حدیث نمبر: 3818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلَا أَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ؟ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ لَفْظَ التَّسْلِيمِ وَقَدْ أَثْبَتَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ هَؤُلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ نے نماز میں کوئی اضافہ کیا یا کمی کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے بتایا: آپ نے اس طرح نماز پڑھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ٹانگوں کو موڑا اور قبلہ رخ ہو گئے اور دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد جب ہماری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم آجاتا تو میں آپ کو ضرور بتا دیتا، لیکن میں تمہاری طرح بشر ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ میں جب بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو اور جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو یقینی بات سوچ لے، پھر اسی پر نماز کو پورا کرے، پھر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3818
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»