السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سجود السهو في النقص من الصلاة قبل التسليم باب: نماز میں کمی کی صورت میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنِ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِهِمْ فَنَسِيَ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ " قَالَ أَبِي: وَهُوَ رَأْيِي قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ فَعَلَهُ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ وَقَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ ⦗٤٧٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.(ا) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن یوسف رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے انھیں نماز پڑھائی تو بھول گئے۔ آپ نے قعدہ کرنا تھا مگر نہیں کیا۔ جب وہ نماز کے آخری قعدے میں تھے تو سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے۔
(ج) امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی جب دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہو گئے تھے تو انھوں نے بھی اسی طرح سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے تھے اور یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے۔