السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الراكب يسجد موميا والماشي يسجد على الأرض باب: سوار اشارے سے سجدہ کرے اور پیدل چلنے والا زمین پر سجدہ کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ يَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ " وَيُذْكَرُ، عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا سَجَدَا وَهُمَا رَاكِبَانِ بِالْإِيمَاءِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ السُّجُودِ عَلَى الدَّابَّةِ، فَقَالَ: اسْجُدْ وَأَوْمِ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا تَسْجُدْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ طَاهِرًا فَإِذَا سَجَدْتَ وَأَنْتَ فِي حَضَرٍ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَإِنْ كُنْتَ رَاكِبًا فَلَا عَلَيْكَ حَيْثُ كَانَ وَجْهُكَ.(ا) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے سال آیتِ سجدہ تلاوت کی تو سب لوگ سجدہ ریز ہو گئے، ان میں سوار بھی تھے اور زمین پر سجدہ کرنے والے بھی تھے۔ جو سوار تھے انہوں نے اپنے ہاتھ پر سجدہ کیا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے جانور یعنی سواری پر سجدہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: سجدہ اشارے سے کرو۔
(د) امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ باوضو ہو کر ہی سجدہ کرو، جب حالتِ حضر میں سجدہ کرے تو قبلہ رخ ہو جا اور اگر تو کسی سواری وغیرہ پر سوار ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں، جدھر بھی تیرا چہرہ ہو (ادھر ہی سجدہ کر لے)۔