السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يسجد المستمع إذا لم يسجد القارئ باب: اس قول کا بیان کہ جب قاری سجدہ نہ کرے تو سننے والا بھی سجدہ نہ کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فِيهَا سَجْدَةٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ الرَّجُلُ وَسَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ آخَرُ آيَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، وَهُوَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَظَرَ الرَّجُلُ أَنْ يَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَلَمْ تَسْجُدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتَ إِمَامًا فَلَوْ سَجَدْتَ سَجَدْتُ مَعَكَ " وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَ: إِنِّي لَأَحْسَبُهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ يُحْكَى أَنَّهُ قَرَأَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَإِنَّمَا رَوَى الْحَدِيثَيْنِ مَعًا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: فهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُحْتَمَلٌ وَقَدْ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، وَإِسْحَاقُ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ أَيْضًا ⦗٤٦٠⦘ ضَعِيفٌ وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْصُولٌ مُخْتَصَرٌ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.(ا) حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص نے آیتِ سجدہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تلاوت کی اور سجدہ کیا تو نبی ﷺ نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر کسی دوسرے شخص نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور وہ بھی نبی ﷺ کے پاس تھا، وہ نبی ﷺ کے سجدے کا انتظار کرتا رہا مگر آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو امام تھا اگر تو سجدہ کرتا تو میں بھی تیرے ساتھ سجدہ کرلیتا۔“
(ب) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے پاس تلاوت کی تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہو سکتی ہے۔