السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سجود القوم بسجود القارئ باب: قاری کے سجدہ کرنے کی وجہ سے لوگوں (سامعین) کا سجدہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3766
قَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُجُودِهِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ان کا نبی کریم ﷺ کے پیچھے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ پڑھنے پر سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی تو سجدہ کیا اور ایک شخص کے سوا پوری قوم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس شخص نے ہاتھ میں تھوڑی سی کنکریاں یا مٹی لے کر اپنے چہرے کے پاس لے گیا اور کہا: ”مجھے یہی کافی ہے۔“
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں نے اس کو حالتِ کفر میں ہی قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے (وہ شخص امیہ بن خلف تھا)۔