السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوقوف عند آية الرحمة وآية العذاب وآية التسبيح باب: آیتِ رحمت، آیتِ عذاب اور آیتِ تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بِشْرِ بْنِ جَابَانَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ حُجْرِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ قَيْسٍ الْمُدَرِيِّ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ يَقْرَأُ، فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} [الواقعة: ٥٩] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: ٦٣] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} [الواقعة: ٦٨] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا ".حضرت حجر بن قیس مدری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں رات گزاری تو میں نے انھیں تہجد میں قراءت کرتے سنا، جب وہ اس آیت پر پہنچے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ * أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ﴾ [سورة الواقعة: 58-59] ”اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو پانی تم ٹپکاتے ہو، کیا اس کا انسان تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟“ تو فرمایا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”بلکہ اے اللہ! تو ہی خالق ہے“۔ تین مرتبہ کہا۔ پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] پھر انھوں نے دو بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے رب! بلکہ تو ہی ہے“، پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ﴾ [سورة الواقعة: 68-69] ”اچھا یہ بتاؤ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟“
انہوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! تو ہی تو ہے“۔ پھر پڑھتے: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ [سورة الواقعة: 71-72] ”اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو، اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔ انھوں نے تین بار کہا: «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے“۔