حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا {أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ} [التين: ٨] فَلْيَقُلْ: وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ {لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [القيامة: ١] فَانْتَهَى إِلَى {أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى} [القيامة: ٤٠] فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: ٥٠] فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللهِ " قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھے اور اس کی آخری آیت ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة التين: 8] ”کیا اللہ تعالیٰ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟“ پر پہنچے تو وہ «بَلَىٰ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ”ہاں! اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں“ کہے، اور جو شخص ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة القيامة: 1] پڑھے اور اس کی آیت ﴿أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے؟“ پر پہنچے تو وہ «بَلَىٰ» ”ہاں“ کہے، اور جو شخص ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھے اور وہ ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المرسلات: 50] ”اس کے بعد اور کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے؟“ پر پہنچے تو وہ «آمَنَّا بِاللَّهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے“ کہے۔“
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: ”میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے۔ اس دیہاتی نے کہا: بھتیجے! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3693
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 887»