وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجِعًا فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ، فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَهُوَ قَائِمٌ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ وَفِي صَلَاتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي مَرَضِهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا قَصَدْنَاهُ بِهَذَا الْبَابِ وَفِي صَلَاتِهِ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ الْأَوَّلَ صَارَ مَنْسُوخًا وَأَنَّ الصَّحِيحَ يُصَلِّي قَائِمًا، وَإِنْ صَلَّى إِمَامُهُ قَاعِدًا بِالْعُذْرِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار تھے تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کو اپنی طبیعت کچھ بہتر محسوس ہوئی تو آئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں جا بیٹھے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کروا رہے تھے اور آپ بیٹھے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔
(ب) آپ ﷺ ایامِ مرض میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ اس حدیث میں اس چیز کی دلیل ہے جس کا ہم نے باب میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کھڑے ہونے اور آپ ﷺ کے بیٹھ کر نماز پڑھانے میں اس بات کی دلیل ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہے اور صحیح یہ ہے کہ مقتدی کھڑا ہو کر پڑھے اگرچہ امام عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھ رہا ہو۔ وباللہ التوفیق۔