السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يكون منهما نافلة باب: ان دونوں میں سے کون سی نماز نفل ہو گی اس کا بیان
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَأَى رَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ الْقَوْمِ قَالَ: فَدَعَا بِهِمَا فَجَاءَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: " مَا لَكُمَا لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟ " قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، وَلْيَجْعَلِ الَّتِي صَلَّى فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً " قَالَ عَلِيٌّ: خَالَفَهُ أَصْحَابُ الثَّوْرِيِّ وَمَعَهُمْ أَصْحَابُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مِنْهُمْ: شُعْبَةُ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشَرِيكٌ وَغِيلَانُ بْنُ جَامِعٍ وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ وَمُبَارِكُ بْنُ فَضَالَةَ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمْ وَرَوَوْهُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مِثْلَ قَوْلِ وَكِيعٍ، يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ: " فَيَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً، وَالَّتِي فِي رَوَاحِلِكُمْ فَرِيضَةٌ " قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَجَّاجٍ بِذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَخْطَأَ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ فِي إِسْنَادِهِ وَإِنْ أَصَابَ فِي مَتْنِهِ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ احْتِجَاجَ مَنِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَسْوَدِ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، وَلَا لِجَابِرِ بْنِ يَزِيدَ رَاوٍ غَيْرُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، وَكَانَ ⦗٤٢٩⦘ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ يُوَثِّقُونَ يَعْلَى بْنَ عَطَاءٍ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَهُ شَوَاهِدُ قَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا، فَالِاحْتِجَاجُ بِهِ وَبِشَوَاهِدِهِ صَحِيحٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حضرت جابر بن یزید رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں سے پیچھے دو آدمی دیکھے، رسول اللہ ﷺ نے انھیں بلایا۔ وہ وحشت و خوف کے عالم میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ وہ دونوں گھبرائے ہوئے بولے: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم میں سے کوئی اپنے گھر نماز پڑھ آیا ہو پھر مسجد میں آئے اور امام نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لے اور جو نماز اس نے گھر میں پڑھی ہے اس کو نفل نماز بنا لے۔“
حضرت علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثوری رحمہ اللہ کے تلامذہ نے اس کی مخالفت کی ہے، ان کے ساتھ حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہیں۔ ان میں سے حضرت شعبہ، ہشام بن حسان، شریک، غیلان بن جامع، ابو خالد دالانی، مبارک بن فضالہ، ابوعوانہ اور ہشیم رحمہم اللہ ہیں۔ انھوں نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے حضرت وکیع رحمہ اللہ جیسا قول نقل کیا ہے۔
حضرت علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو حضرت حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ وہ اپنی سند سے نبی ﷺ سے اس کی مثل روایت فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ ”نماز تمہارے لیے نفل ہوگی اور جو تم نے گھروں میں پڑھی ہے وہ فرض ہوگی۔“
حجاج بن ارطاۃ سے اس کی سند میں غلطی ہوئی ہے اگرچہ متن میں وہ درست ہیں، اور صحیح جماعت کی روایت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں ان لوگوں کا استدلال ذکر کیا جو یعلیٰ بن عطاء کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں، پھر فرمایا: یہ سند مجہول ہے۔ واللہ اعلم، انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ یزید بن اسود سے ان کے بیٹے جابر بن یزید کے سوا کوئی راوی نہیں، اور جابر بن یزید سے یعلیٰ بن عطاء کے سوا کوئی راوی نہیں۔ یحییٰ بن معین اور ائمہ کی ایک جماعت یعلیٰ بن عطاء کو ثقہ قرار دیتے تھے، اور اس حدیث کے شواہد ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے، لہٰذا اس سے اور اس کے شواہد سے استدلال صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔