السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما أدرك من صلاة الإمام فهو أول صلاته باب: جو نماز امام کے ساتھ پا لی جائے وہی اس کی پہلی نماز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكُمْ؟ " قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ وَشَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ كَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کا شور و غل سنا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو انہیں بلا کر پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے کہا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو تمہارے اوپر اطمینان اور سکون طاری ہو، جتنی نماز (جماعت کے ساتھ) پالو پڑھ لو اور جو رہ گئی ہو اس کو پورا کر لو۔“