حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ بِالرِّيِّ، أنا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يُسْأَلُ عَنْ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ. قَالَ: فَتَرَكْتُهُ حَتَّى خَفَّ النَّاسُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدَ اللهِ، سَمِعْتُكَ تُفْتِي فِي مَسْأَلَةِ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ، زَعَمْتَ أَنْ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَعِنْدَنَا فِي ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقُلْتُ: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَلِّكُ بِخِنْصَرِهِ مَا بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ". فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَا سَمِعْتُ بِهِ قَطُّ إِلَّا السَّاعَةَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ. قَالَ عَمِّي: مَا أَقَلَّ مَنْ يَتَوَضَّأُ إِلَّا وَيُحِيطُهُ الْخَطُّ الَّذِي تَحْتَ الْإِبْهَامِ فِي الرِّجْلِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُثْنُونَ إِبْهَامَهُمْ عِنْدَ الْوُضُوءِ، وَمَنْ تَفَقَّدَ ذَلِكَ سَلِمَ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن عبد الرحمٰن بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے چچا سے سنا اور انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے سنا کہ ان سے وضو میں پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ لوگوں پر (فرض) نہیں ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی بھیڑ چھٹ گئی تو میں نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ لوگوں پر (ضروری) نہیں ہے، جبکہ ہمارے پاس اس بارے میں ایک سنت (حدیث) موجود ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: مستورد بن شداد قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ”اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اپنی چھوٹی انگلی سے خلال کرتے تھے۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ اچھی حدیث ہے“، اور میں نے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ پھر میں نے اس کے بعد سنا کہ جب ان سے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا حکم دیا۔ میرے چچا فرماتے ہیں: بہت کم ایسے لوگ ہیں جو وضو کرتے ہوں اور ان کے پاؤں کے انگوٹھے کی نچلی جانب بال برابر جگہ خشک نہ رہ جائے، کیونکہ عام لوگ وضو کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے موڑ لیتے ہیں، تو جس نے اس کا خلال کیا وہ اس غلطی سے بچ گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي حاكم في مقدمة الجرح والتحديل 1/31»