السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه إن بزق عن يساره أو تحت قدمه دفنها، أو دلكها بنعله اليسرى باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کوئی بائیں طرف یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے تو اسے دفن کر دے، یا اپنے بائیں جوتے سے اسے رگڑ دے
حدیث نمبر: 3599
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ إِنَّهُ يُنَاجِي اللهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنْهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی داہنی طرف تھوکے کیونکہ اس کی داہنی طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے، بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے اور اس کو دفن بھی کرے۔“