السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية التثاؤب في الصلاة وغيرها وما يؤمر به عند ذلك باب: نماز اور اس کے علاوہ جمائی لینے کی کراہت اور اس وقت دیے گئے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 3575
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُودٍ التَّمِيمِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقِرُ حَيٌّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤١١⦘ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَسْمَعُهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَالَ: هَاهْ ضَحِكَ الشَّيْطَانُ مِنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہے تو سننے والے مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم کرے“ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو روکنے کی کوشش کرے، کیونکہ تم میں سے جب کوئی جمائی کے وقت (ہاہا کی) آواز نکالتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔“