السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : لا يمسح وجهه من التراب في الصلاة حتى يسلم باب: نمازی جب تک سلام نہ پھیر لے نماز میں اپنے چہرے سے مٹی صاف نہ کرے
حدیث نمبر: 3554
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: " لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْإِنْسَانِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِهِ " قَالَ الْعَبَّاسُ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ عَدَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک سجدے کا نشان آدمی کے چہرے میں رہتا ہے، فرشتے مسلسل اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
عباس کہتے ہیں: اسے ان (محاضر) کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اسے بے مروتی میں شمار کرتے تھے، اور حسن رحمہ اللہ سے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔