السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية الالتفات في الصلاة باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَى يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي اسْتَقْبَلَهُ اللهُ بِوَجْهِهِ فَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْهُ حَتَّى يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْهُ " وَرَوَاهُ أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِذَا نَصَبْتُمْ وُجُوهَكُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا " وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، وَقَالَ: " فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَلْتَفِتُوا ".سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام پر وحی نازل کی تو انہوں نے کھڑے ہو کر اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: اللہ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے اور آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، لہٰذا کوئی بھی اپنے چہرے کو اس سے نہ پھیرے۔ جب بندہ چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹا لیتا ہے۔“
یہ روایت ابوتوبہ نے معاویہ کے واسطے سے بیان کی ہے۔ اس میں ہے کہ ”جب تم اپنے چہروں کو (قبلہ کی طرف) سیدھا کرلو تو پھر ادھر ادھر مت دیکھو۔“
یہی روایت یحییٰ بن ابی کثیر زید بن سلام کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو ادھر ادھر مت جھانکو۔“