السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من كره الصلاة إلى نائم أو متحدث باب: اس قول کا بیان جس نے سوئے ہوئے یا باتیں کرنے والے شخص کی طرف نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 3516
وَأَصَحُّ أَثَرٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْدِيكَرِبَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: لَا تَصُفُّوا بَيْنَ الْأَسَاطِينِ وَلَا تُصَلِّ وَبَيْنَ يَدَيْكَ قَوْمٌ يَمْتَرُونَ أَوْ يَلْعَبُونَ وَهَذَا الْمَوْقُوفُ فِي قَوْمٍ يَمْتَرُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُلْهِيهِ سَمَاعُ أَصْوَاتِهِمْ وَكَلَامِهِمْ عَنِ الْخُشُوعِ فِي الصَّلَاةِ فَيَتَّقِي ذَلِكَ مَا اسْتَطَاعَ، فَأَمَّا الصَّلَاةُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ نَائِمٌ فَلَا يُحْتَشَمُ مِنْهُ فَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهَا وَذَلِكَ فِيمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ا) ”ستونوں کے درمیان صفیں نہ بناؤ اور نہ نماز پڑھو اگر تمہارے سامنے کھینچا تانی کرنے والے اور کھیلنے والے لوگ ہوں۔“
(ب) یہ موقوف روایت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے سامنے لوگ کھینچا تانی کر رہے ہوں اور ان کی باتوں کی آواز اور گفتگو سے نماز کا خشوع ختم ہو جاتا ہو، تو جہاں تک ممکن ہو ان سے بچے، لیکن اگر اس کے سامنے کوئی سو رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، نبی ﷺ ایسا کیا کرتے تھے۔