السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قِرَاءَةً ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ لَفْظًا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ بَكْرَ بْنَ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؟ " قَالَ: فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ کے آگے سے ایک گدھا گزرا تو عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے“! جب رسول اللہ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”ابھی ابھی سبحان اللہ کس نے پڑھا؟“ عیاش رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں نے سنا تھا کہ گدھا (آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی“ یعنی کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔