السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3498
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ: قِيلَ لَهَا: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَتْ: " أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحَمِيرِ وَرُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَيَكُونُ لِي حَاجَةٌ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ؛ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي.حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں: کتا، گدھا اور عورت (سامنے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا ہے، میں نے کئی مرتبہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اور میں چارپائی پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ مجھے کوئی حاجت ہوتی تو چپکے سے چارپائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک کر نکل جاتی، اس بات کو ناپسند سمجھتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیر لوں۔