حدیث نمبر: 3496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ مُعْتَرِضَةً فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ قَالَ: " تَنَحِّي " وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ عَائِشَةَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي وَأَوْتَرْتُ وَذَلِكَ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے قبلہ کی طرف لیٹی ہوتی تھی اور آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے تو فرماتے: ”اے عائشہ! ایک طرف ہو جا۔“
(ب) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3496
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود711»