السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ مُعْتَرِضَةً فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ قَالَ: " تَنَحِّي " وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ عَائِشَةَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي وَأَوْتَرْتُ وَذَلِكَ أَصَحُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے قبلہ کی طرف لیٹی ہوتی تھی اور آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے تو فرماتے: ”اے عائشہ! ایک طرف ہو جا۔“
(ب) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی۔