السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا تَقُولُونَ فِيمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، قَالَتْ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سُوءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ کون سی چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: عورت اور گدھے کے گزرنے سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عورت برا جانور ہے؟ یقیناً میں تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس طرح کوئی جنازہ ہوتا ہے اور آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے۔