السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من تناول في صلاته شيئا بيده أو غمز غيره باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز لی یا کسی دوسرے کو دبایا (اشارہ کیا)
حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میری ٹانگیں رسول اللہ ﷺ کے قبلہ کی سمت میں رکاوٹ تھیں۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو مجھے اشارہ کر دیتے، میں اپنی ٹانگیں سمیٹ لیتی اور جب آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔