السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يقول إذا نابه شيء في صلاته باب: جب نمازی کو اپنی نماز میں کوئی پیش آمدہ معاملہ درپیش ہو تو وہ کیا کہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، فَذَكَرَهُ وَذَكَرَ فِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثَ الْعُكْلِيَّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ: " فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ تَنَحْنَحَ وَكَانَ ذَلِكَ إِذْنَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کی سند میں حارث عکلی رحمہ اللہ کا ذکر بھی کیا ہے، اس میں ہے کہ اگر آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تو میرے لیے کھنکارتے (کھانسی کرتے) اور یہ آپ کی اجازت ہوتی تھی۔