السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يقول إذا نابه شيء في صلاته باب: جب نمازی کو اپنی نماز میں کوئی پیش آمدہ معاملہ درپیش ہو تو وہ کیا کہے اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَخَرَجَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللهِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ إِلَّا الْتَفَتَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَاهُ أَيْضًا.(ا) سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو پتا چلا کہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی اختلاف ہوا ہے تو آپ ﷺ ان میں صلح کرنے نکلے۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو تم تالیاں بجانا شروع کر دیتے ہو؟ تالیاں بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔ اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہو۔ جب کوئی «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہے تو جو سنے گا وہ ضرور متوجہ ہو گا۔“
(ب) بخاری و مسلم کی روایت میں دوسری سند سے ہے اس میں «تَصْفِیْق» کی جگہ «تَصْفِیْح» کا لفظ ہے اور سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: «تَصْفِیْح» ہی «تَصْفِیْق» ہے۔