السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية السدل في الصلاة وتغطية الفم باب: نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے) اور منہ ڈھانپنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3310
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ ⦗٣٤٤⦘ عَبْدِ الْعَزِيزُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَامِرٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ السَّدْلِ، فَكَرِهَهُ، فَقُلْتُ أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ " وَهَذَا الْإِسْنَادُ وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَفِيهِ قُوَّةٌ لِلْمَوصُولِينَ قَبْلَهُ وَرُوِّينَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ صَلَّى سَادِلًا وَكَأَنَّهُ نَسِيَ الْحَدِيثَ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا لَا يَجُوزُ لِلْخُيَلَاءِ وَكَانَ لَا يَفْعَلُهُ خُيَلَاءً، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
عامر احول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کپڑا لٹکانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اسے مکروہ کہا۔ میں نے پوچھا: کیا یہ نبی ﷺ سے ثابت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ثابت ہے۔
نوٹ: نماز میں سر یا کندھوں سے دونوں طرف کپڑا لٹکانا «السَّدْلُ» کہلاتا ہے۔
(ب) ہمیں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے حوالے سے روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے کپڑا لٹکا کر نماز ادا کی۔
(ج) شاید وہ یہ حدیث بھول چکے ہوں یا انہوں نے اس پر محمول کیا ہو کہ یہ صرف تکبر کی نیت سے جائز نہیں اور انہوں نے تکبر کی نیت سے نہ کیا ہو۔ واللہ اعلم۔